کہی آپ اپنے بچے، بچیوں کو سیکس اڈیکٹ تو نہیں بنا رہے ہیں؟لڑکے لڑکیوں کے بالغ ہونے کے باوجود معاشرے کے بنائے گئے خود ساختہ اصول و معیار کی وجہ سے نکاح میں دیری کرنے والے والدین ہوش کے ناخن لے

لڑکے لڑکیوں کے بالغ ہونے کے باوجود معاشرے کے بنائے گئے خود ساختہ اصول و معیار کی وجہ سے نکاح میں دیری کرنے والے والدین ہوش کے ناخن لے اس جدت پسند بے حیا معاشرے اور انٹرنیٹ کے دور میں اپنے بچوں کی جوانی کو برباد مت کیجئے، اپنی انا اور معیار کو سائیڈ میں رکھ دیجیے کیونکہ ایسے معاشرے میں جہاں بے حیائی کا سیلاب عام ہو جہاں پر فلموں میں ننگے ناچ گانے گھروں میں ایک ساتھ بیٹھ کر تمام خاندان دیکھ رہا ہو تو اس معاشرے کے بچے عمر سے پہلے ہی بالغ ہوجاتے ہیں۔ یہ تو گھروں کا‌ ماحول ہے۔ ہمارے بازاروں کا ماحول اتنا بے حیا ہوچکا ہے کہ نظر اٹھاکر چلے تو گناہ جھکا کر چلوں تو گناہ ہونے ہکا ڈر و خوف ہے۔ ہم ایسے معاشرے میں جی رہے جہاں اسکول کی ،مارکیٹ بس اسٹینڈ کی دیواروں پر بڑے حروف میں سیکس کی بیماریوں کے اشتہارات دیے ہوتے ہیں۔ اخبارات میں ٹی وی کی اسکرین پر قوت باہ بڑھانے کی بڑے بڑے اشتھارات دیے جاتے ہیں۔ ان تمام چیزوں سے بچے اب عمر سے پہلے بڑے ہونے لگے ہیں۔اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے لڑکے لڑکیوں کے بالغ ہوتے ہی نکاح کروا دیں موبائل کے استعمال سے بچوں کو دور رکھے نوجوان لڑکیوں کو ہر گز انڈراوڈ موبائل نہ دیں ضرورت کے مطابق سادہ موبائل فون دیں یا اپنا موبائل ضرورت کے وقت استعمال کیلئے دیں۔ نوجوانوں پر کڑی نظر رکھے۔ اپنے گھر کے بچوں پر انکے دوستوں سہیلیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ خاندان میں غیر محرم لڑکے لڑکیوں کو ہر گز باتیں نہ کرنے دیں کزن بولنے سے نا محرم محرم نہیں ہوجاتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ چاہے آپ کچھ بھی کہے۔ جوانی بے لگام گھوڑے کی مانند ہے۔ اور جب دو مرد عورت تنہائی میں ہو تو ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ اور وہ حرام کام کرنے پر اکساتا ہے پوری طاقت و قوت لگا دیتا ہے۔ اس لیے والدین اس بات کو سنجیدگی سے لیں ہر وقت چاہے فنکشن ہو یا خوشی یا غمی کا موقع اپنے بچوں کو اکیلے نہ چھوڑے کسی بھی غیر محرم پر اعتماد نہ کریں۔ چاہے وہ کتنا بھی نیک ہو کیونکہ اس میں تیسرا شیطان ہوتا ہے جب وقت کے ولی کو شیطان بہکا سکتا ہے، تو آج کے نوجوان کونسی کھیت کی مولی ہے۔اس لیے بہت ضروری ہے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بالغ ہونے پر نکاح کردیں رزق کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ انکے جزبات کو کچل رہے ہیں۔ نوکری اور گھر بار کے چکر میں شادی کی عمر سے تجاوز کرنے والی لڑکیاں تا عمر خون کے آنسوں رونے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ یا پھر حرام طریقے سے خواہشات کی تکمیل کیلئے مجبور ہوجاتی ہے۔ نوجوان لڑکے نوکری اور ویل سیٹل کے چکر میں اپنے جزبات کو مار کر رکھتے ہیں اور آدھی عمر میں نکاح کرنے کے بعد ازدواجی زندگی کی حقیقی لزت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جو کے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر فطری طور پر رکھ دیا ہے۔ اگر اسکی تکمیل حلال طریقے پر انجام نہیں پاتی ہے ۔ تو حرام طریقے پر ضرور انجام دی جائے گی چاہے وہ دنیا والوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر کیوں نہ کریں۔ اور آج کل یہ ایک ٹرینڈ چل رہا ہے کہ لڑکے کی عمر چاہے کتنی بھی ہو اسکے والدین اپنے بچے کیلئے ۱۶، ۱۷ سالہ لڑکی کا رشتہ تلاش کرتے ہیں۔کہ بچی کم پڑھیں لکھی ہونا چاہیے، کیونکہ وہ آج کل کالج یونیورسٹی کی ماحول سے واقف ہوچکے ہے کہ کس طرح سے نوجوان لڑکے لڑکیاں نا محرم سے دوستانہ تعلقات قائم کرلیتے ہیں اورتمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔ اس لیے وہ کم عمر لڑکیوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چاہے لڑکا کتنا ہی بگڑا ہوا کیوں نہ ہو، اور آدھی عمر کا کیون نہ ہو، جب اتنی عمر میں لڑکا شادی کریں گا تو وہ لڑکی تو اپنی جوانی کی عمر میں ہی بیوہ ہوجائے گی۔ اسکی خواہشات ضروریات سب دھری رہ جائے گی۔ اس لیے یہ جھوٹے رسم و رواجوں کو معاشرے سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے ورنہ نوجوان نسل اس پرفتن ماحول میں سیکس اڈیکٹ ہوجائے گی۔ کیونکہ ہر ہاتھ میں انڈراوڈ موبائل فونز موجود ہے اور کسی بھی کونے میں نیٹورک بھی موجود ہے۔ اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اسے بہکانے میں اور انسان کے بہکنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ اس فعل حرام میں صرف لڑکے ہی نہیں لڑکیاں بھی برابر کی شریک ہے۔ کیونکہ ایک ہاتھ سے تو تالی نہیں بجا کرتی ہے۔ میری باتیں آپ کو شاید تلخ محسوس ہو پر یہی حقیقت ہے۔ اسے تسلیم کرنے میں بھلائی ہے۔ ورنہ پانی سر سے گزر جانے کے بعد کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔ذیل میں ایک واقعہ کو نقل کر رہا ہو پڑھیں اور سوچئیے۔ ‘لاہور کی وہ جسم فروش۔۔۔۔ قصوروار آخر کون” خطرناک عنوان ہے۔۔۔ مت لکھو۔۔۔ جانتا ہوں۔۔۔ پانچ بار لکھ کر مٹا چکا ہوں۔۔۔ پہلے بھی ایک بار ایسے موضوع پر سچ لکھ بیٹھا تھا۔۔۔ ہاں یاد ہے مجھے تب بھی کچھ لوگوں کو سچ ہضم نہ ہوا تھا۔۔۔ بالکل ایسا ہوا۔۔۔ لیکن اب اس سوچ کا کیا کروں جس سے سر میں درد رہنے لگا ہے؟؟؟ بھول جاؤ بس۔۔۔ بھلایا ہی تو نہیں جاتا۔۔۔ یہ عام جسم فروش ہوتیں تو ضرور بھلا دیتا۔۔۔ لیکن یہ قصہ کسی طور ہضم نہیں ہوتا۔۔۔لاہور کے رہنے والے۔۔۔ جن کا شام کے وقت پنجاب یونیورسٹی کے پاس سے گزر ہوتا ہو۔۔۔ مغل اعظم سے آگے فیصل ٹاون موڑ تک سروس روڈ پر نظر پڑی ہو۔۔۔ تو ہر ایک یا دو گلیاں چھوڑ کر۔۔۔ درختوں کے نیچے کچھ لڑکیاں کسی موٹر سائیکل، کسی گاڑی یا کسی رکشہ والے کے پاس کھڑی ہوتی ہیں۔۔۔ کچھ سال قبل جب دوست نے بتایا کہ یہ جسم فروش ہیں۔۔۔ تو میں حیران تھا۔۔۔ لیکن اب کی بار پریشانی عجیب ہے۔۔۔گزشتہ دو تین ہفتوں میں کئی بار کچھ لڑکیوں پر نظر پڑی۔۔۔ جنہوں نے سفید لباس پہن رکھا تھا۔۔۔ یہ اچانک رکشوں، موٹر سائیل یا گاڑی کی جانب لپکتیں۔۔۔ روز یہ تماشا دیکھ کر میرا تجسس بڑھنے لگا۔۔۔ اسی تجسس نے مجھے انویسٹگیشن پر مجبور کیا۔۔۔ ہفتہ قبل میں وہاں سے موٹر سائیکل پر گزر رہا تھا۔۔۔ اسی لباس میں تین لڑکیوں کو درخت کے نیچے دیکھا۔۔۔ سوچا آج بائیک بھی میرا اپنا نہیں ہے۔۔۔ سر پر ہیلمٹ بھی ہے۔۔۔ کوئی پہچانے گا نہیں۔۔۔ دیکھتا ہوں ماجرا کیا ہے۔۔۔ اللہ کا نام لیتے ہوئے ڈرتے ڈرتے واپس مڑا۔۔۔ ابھی میں نے بائیک روکا ہی تو ایک لڑکی دوڑ کر آئی۔۔۔۔ جی جناب۔۔۔ چلوں؟؟؟ مجھے سمجھ ہی نہ آئی کیا کہوں۔۔۔ میں خاموش رہا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔ کہنے لگی: ڈر کس بات کا ہے بولو۔۔۔لڑکی کی عمر بمشکل اٹھارہ یا بیس سال ہوگی۔۔۔ کہا: کتنے پیسے لو گی؟؟؟ جواب آیا: پچیس سو نائیٹ کا۔۔۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔۔۔ بٹوا نکالا اور پیسے گننے لگا۔۔۔ کہتی: ادھر سب کے سامنے مت نکالو۔۔ میں نے خاموشی سے پینتیس سو روپے نکالے اور کہا: تم نے پچیس سو کہا۔۔۔ یہ پینتیس سو لو اور جاو واپس گھر۔۔۔ اس نے مجھے گھور کر دیکھا۔۔۔ پیسے پکڑنے سے انکار کیا۔۔۔ کہتی پیسوں کے لیے نہیں کرتی۔۔۔ لے کر جانا ہے تو بتاو بس۔۔۔ اور میں حیران تھا۔۔۔ یہ پیسوں کے لیے نہیں کرتی تو کیا وجہ ہوسکتی ہے۔۔۔۔ اور وجہ ہے سیکس اڈیکشں جنسی خواہشات کی عادت جو فطری عمل کی بلوغت کو پہنچنے کے ساتھ تکمیل نہ ہونے کی بنا پر حرام طریقے اختیار کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں