کیا اس لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کرسکتے ہو؟

شیخ عبداللّٰہ اندلسیؒ حضرت شبلیؒ رحمة الله عليه کے پیرو تھے، ایک مرتبہ عیسائیوں کی بستی کے قریب سے گزر رہے تھے اس بستی کے اوپر صلیبیں لٹک رہیں تھیں، تھوڑی دیر کے بعد وہ ایک کنوئیں پر عصر کی نماز ادا کرنے کیلئے وضو کرنے گئے، وہاں کسی لڑکی پر نظر پڑی ،شیخ کا سینہ وہیں خالی ہوگیا۔ اپنے مریدین سے کہنے لگے ،جاوٴ وآپس چلے جاوٴ، میں ادھر جاتا ہوں جدھر یہ لڑکی ہوگی ، میں اس کی تلاش میں جاوٴں گا،مریدین نے رونا شروع کردیا، کہنے لگے! ” شیخ آپ کیا کررہے ہیں؟یہ وہ شیخ تھے جنہیں ایک
لاکھ حدیثیں یاد تھیں، قرآن کے حافظ تھے، سینکڑوں مسجدیں ان کے دم قدم سے آباد تھیں انہوں نے کہا: ” میرے پلے کچھ نہیں جو میں تمہیں دے سکوں ، اب تم چلے جاوٴ-” شیخ ادھر بستی میں چلے گئے،کسی سے پوچھا یہ لڑکی کہاں کی رہنے والی ہے؟ اس نے کہا ”یہ یہاں کے نمبردار کی بیٹی ہے۔” اس سے جاکر ملے ، کہنے لگے : کیا تم اس لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کرسکتے ہو؟اس نے کہا:” یہاں رہو، ہماری خدمت کرو، جب آپس میں موافقت ہوجائے گی، تو پھر آپ کا نکاح کردیں گے، انہوں نے کہا؛ ٹھیک ہے،وہ کہنے لگا آپ کو سوروں کا ریوڑ چرانے والا کام کرنا پڑے گا،شیخ اس پر بھی تیار ہوگئے، اور کہنے لگے کہ ہاں میں خدمت کرونگا،صبح کے وقت سور لیکر نکلتے سارا دن چرا کر شام کو وآپس آیا کرتے،ادھر مریدین جب وآپس گئے،اور یہ خبر لوگوں تک پہنچی تو کئی لوگ صدمہ سے بیہوش ہوگئے..لوگ حیران تھے کہ ”اے اللّٰہ! ایسے ایسے لوگوں کیساتھ بھی تیری بے نیازی کا یہ معاملہ ہوسکتا ہے، ایک سال اسی طرح گزر گیا،حضرت شبلی ؒ رحمة الله عليه سچے مرید تھے، جانتے تھے کہ میرے شیخ صاحب استقامت تھے، سوچا اس معاملے میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوگی، ان کے دل میں بات آئی کہ میں جاکر حالات معلوم کرو، چنانچہ اس بستی میں آئے اور لوگوں سےپوچھا کہ میرے شیخ کدھر ہیں؟کہا: تم فلاں جنگل میں جاکردیکھو، وہاں سور چرا رہے ہونگے،جب وہاں گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ…وہی عمامہ، وہی جبہ، اور وہی عصا،جس کو لیکر وہ جمعہ کا خطبہ دیا کرتے تھے ،آج اسی حالت میں سور چرا رہے ہیں،شبلی رحمتہ اللّٰہ قریب گئے اور پوچھا : حضرت آپ تو قرآن کے حافظ تھے … آپ بتائیے کہ کیا قرآن آپ کو یاد ہے؟فرمانے لگے :”قرآن یاد نہیں ”پھر پوچھا حضرت ! کوئی ایک آیت یاد ہے؟سوچ کر کہنے لگے، ”مجھے ایک آیت یاد ہے”پوچھا کونسی آیت ؟کہنے لگے…”ومن یھن اللّٰہ فما له من مکرم””ترجمہ: ”جسے اللّٰہ ذلیل کرنے پر آتا ہےاسے عزتیں دینے والا کوئی نہیں”پورا قرآن بھول گئے اور صرف ایک آیت یاد رہی جو کہ ان کے اپنے حال سے تعلق رکھتی تھی۔حضرت شبلی رحمة اللّٰہ علیہ رونے لگے کہ حضرت کو صرف ایک آیت یاد رہی ،پھر آپ نے ان سے پوچھا حضرت آپ تو حافظ الحدیث تھے، کیا آپ کو حدیثیں یاد ہیں؟فرمانے لگے ایک یاد ہے،”من بدل دینہ فاقتلو” ،.”جو دین کو بدل دے اسے قتل کردو۔”یہ سن کر شبلی ؒپھر رونے لگےتو ساتھ انھوں نے بھی رونا شروع کردیا،.کتابوں میں لکھا ہے ہے کہ شیخ روتے رہے اور روتے ہوئے انھوں نے کہا؛ اے اللّٰہ! ”میں آپ سے یہ امید تو نہیں کرتا تھا کہ مجھے اس حال کو پہنچا دیا جائے گا، رو بھی رہے تھےاور یہ فقرہ بار بار دہرا بھی رہے تھے اللّٰہ تعالٰی نے شیخ کو توبہ کی توفیق عطا فرمادی اور ان کی کیفتیں بھی وآپس لوٹادیںپھر بعد میں شبلیؒ نے پوچھا، یہ سارا معاملہ کیسا ہوا؟فرمایا: ” میں بستی کے قریب سے گزر رہا تھا، میں نے صلیبیں لٹکی ہوئی دیکھیں تو میرے دل میں خیال آیا کہ” یہ کیسے کم عقل ،بیوقوف لوگ ہیں ،جو اللّٰہ کیساتھ کسی کو شریک ٹہھراتے ہیں ..”اللّٰہ تعالی نے میری اس بات کوپکڑ لیا ، کہ عبداللّٰہ! اگر تم ایمان پر ہو تو کیا یہ عقل تمہاری وجہ سے ہے، یا میری رحمت کیوجہ سے ہے؟یہ تمہارا کمال نہیں ہے،یہ تو میرا کمال ہے کہ میں نے تمہیں ایمان پر باقی رکھا ہوا ہے…پس اللّٰہ تعالٰی نے ایمان کا وہ معاملہ میرے سینے سے نکال لیاکہ اب دیکھتے ہیں کہ تم اپنی عقل پر کتنا ناز کرتے ہو..تم نے یہ لفظ کیوں استعمال کئے؟تمہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ اللّٰہ نے انھیں محروم کردیا ہے،بعض روایت کے مطابق قافلہ حج کی ادائگی کے لئے جا رہا ے تھا عام آدمی کے لئے اللہ کی ناراضگی کا الگ اور جو اللہ کے نزدیک جتنا قریب اس کی کسی غلطی پر سزا یا ناراضگی کا جدا گانہ انداز ۔ اللہ ہمیں ہر قسم کی آزمائش سے بچائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں