کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں لندن کی ’حلال گرل سے پوچھیں

بشکریہ ثمرہ فاطمہ بی بی سی اردو،
حلال گرل اباؤٹ ٹاؤن: ’بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ کیا کھائیں اور کہاں کھائیں‘کہتے ہیں کئی بار کامیابی کے لیے صرف ایک زبردست خیال اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔سات برس قبل ایسے ہی ایک آئیڈیا اور حوصلے کے ساتھ 20 سالہ لیلیٰ حسن علی نے لندن کے ایسے ریستورانوں کے بارے میں لوگوں کو بتانا شروع کیا تھا جہاں حلال کھانا ملتا تھا۔آج یہ ویب سائٹ لیلیٰ کی شناخت بن چکی ہے اور انھیں لوگ ’حلال گرل‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔برطانیہ میں حلال کھانے کے ریستورانوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی سب سے پہلی ویب سائٹ ’حلال گرل اباؤٹ ٹاون‘ کی بانی لیلیٰ حسن علی کا تعلق انڈیا کے ایک مسلمان خاندان سے ہے۔لندن میں پیدا ہونے والی کھانے پینے کی شوقین لیلیٰ کی مختلف پکوانوں میں دلچسپی کی راہ میں اکثر یہ مسئلہ رکاوٹ کی طرح کھڑا ہو جاتا تھا کہ وہ نئے قسم کے حلال پکوان کہاں کھا سکتی ہیں۔اسی مسئلے کا حل ڈھونڈتے ہوئے انھیں ایک ویب سائٹ شروع کرنے کا خیال آیا جو حلال کھانوں کے بارے میں خود ان جیسے مسائل کا شکار افراد کی مدد کر سکے۔لیلیٰ نے بتایا کہ ‘میں نے پاکستانی، انڈین اور مشرقِ وسطیٰ کے ریستورانوں کے ریویوز سے آغاز کیا۔ کئی ریستوران والوں نے مجھے بتایا کہ ان کا کھانا حلال ہے لیکن وہ اس کی تشہیر نہیں کرتے۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ میں لوگوں کو بتاؤں گی کیونکہ ایسے کئی بہت لذیذ پکوان ہیں جو لوگوں کو کھانے چاہییں۔ ‘نت نئے کھانوں کی تلاش میں چند ایسے ریستوران بھی ملے جہاں کا کھانا انڈین یا پاکستانی نہیں تھا، لیکن لاجواب تھا۔ لیلیٰ چاہتی تھیں کہ لوگ غیرروایتی پکوانوں کو محض اس بنیاد پر نہ چھوڑیں کہ ان کے خیال میں وہ حلال شکل میں دستیاب نہیں۔لیلیٰ کا کہنا ہے کہ حلال کھانے کی صنعت کو اپنا دائرہِ کار پھیلانے کی ضرورت ہے۔
‘مسلم ریستورانوں کے مالک اکثر ایک جیسے ریستوران کھولتے چلے جاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ لوگ یہی کھانا چاہتے ہیں لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ یہ بات حلال انڈسٹری کے لیے اچھی نہیں ہے، حلال انڈسٹری کو بڑھنے کی ضرورت ہے۔’لیلیٰ نے مختلف پکوانوں والے ریستورانوں کے بارے میں لکھنے کا سلسلہ لندن سے شروع کیا لیکن اب ان کی ویب سائٹ پر مختلف ممالک کے ریستورانوں کے بارے میں بھی بہت معلومات موجود ہیں۔وہ کہتی ہیں ‘مجھے لگا کہ جب آپ سفر کرتے ہیں تو ایک سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ کیا کھائیں اور کہاں کھائیں؟ میں نے سوچا کم از کم جہاں جہاں میں جا رہی ہوں اگر وہاں کے بارے میں اپنے مداحوں کو بتا سکوں وہی کافی ہوگا۔’لیلیٰ اب تک بنکاک، پھوکیٹ، مراکش، کوسٹاریکا، بارسلونا، پیرس اور دبئی کے متعدد ریستورانوں کے بارے میں اپنے قارئین کو معلومات دے چکی ہیں۔لیلیٰ کے شوہر حسن علی ایک انویسٹمنٹ بینکر ہیں اور لیلیٰ کی کامیابی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ‘لیلیٰ جو کرنا چاہتی تھیں اگر وہ نہ کرتیں تو آج اتنی خوش نہ ہوتیں۔’ان کا کہنا ہے کہ اگر لیلیٰ کی خوشی کا انحصار مکمل طور پر ان پر ہوتا تو یہ ان کے لیے بہت دباؤ کی بات ہوتی۔ وہ خوش ہیں کہ لیلیٰ اپنے جنون کو وقت دے پا رہی ہیں۔لیلیٰ نے بتایا کہ ان کے شوہر ان کے ساتھ دوردراز ریستورانوں تک جاتے ہیں اور جس دوران وہ کھانے کی تصاویر لیتی ہیں، وہ بہت صبر سے کام لیتے ہیں کیونکہ اس دوران کئی بار کھانا ٹھنڈا بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بچے کی ذمہ داری بھی لیلیٰ کے ساتھ بانٹ کر یہ یقینی بناتے ہیں کہ لیلیٰ کو اپنے کام کے لیے معقول وقت ملے۔لندن میں حلال کھانا بیچنے والے ریستورانوں کے بارے میں ریویوز لکھنا اور ویڈیوز بنانا لیلیٰ نے شوقیہ شروع کیا تھا لیکن اب وہ اس کام کو بہت آگے تک لے جانا چاہتی ہیں۔لیلیٰ اپنی ویب سائٹ پر ایسے حلال ریستورانوں کے بارے میں بتاتی ہیں جو کسی کو ڈیٹ پر لے جانے کے لیے اچھے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے بچے کو بڑا کرنے کے بارے میں بھی اپنی ویب سائٹ پر لکھتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر بچے کے کھانے پینے کے لیے بازار میں کون سے حلال ‘بےبی فوڈ’ موجود ہیں۔رمضان میں کیا کھائیں اور اسے کیسے پکائیں جیسے موضوعات پر بھی انھوں نے بہت کچھ شائع کیا ہے۔لیلیٰ نے بتایا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ ’حلال گرل اباؤٹ ٹاؤن‘ کو ایک مکمل حلال زندگی گزارنے کی میگزین کے طور پر آگے بڑھائیں۔ وہ اس میں کھانے کے علاوہ، سیاحت اور لائف سٹائل سے متعلق بے شمار موضوعات کو بھی شامل کرنا چاہتی ہیں۔لیلیٰ جلد ہی اپنی مدد کے لیے چند لوگوں کی ٹیم بنانے پر غور کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘اب وقت آ گیا ہے کہ میں اسے بھرپور توجہ کے ساتھ پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھاؤں۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں