ہم خیال مصر میں

حضرت موسیٰ ؑسے کسی نے پوچھا ”فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا‘ وہ انسانوں سے سجدہ کراتا تھا‘ وہ لوگوں کو اپنی عبادت پر بھی مجبور کرتا تھا اور اس نے بنی اسرائیل کے ہزاروں بچے بھی قتل کرا دیئے لیکن اس کے باوجوداللہ نے اسے طویل اقتدار سے نوازا‘ اس کی رسی دراز رکھی‘ اس کا احتساب نہیں کیا‘ اس کی کیا وجہ تھی؟“ حضرت موسیٰ ؑ مسکرائے اور جواب دیا ”فرعون انصاف کرتا تھا“ یہ مختصر سا جواب اس زمین کی سب سے بڑی سچائی ہے۔انصاف وہ خوبی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرعون کی خدائی کا دعویٰ بھی معاف کر دیتا ہے‘ یہ فرعون جیسے شخص کو بھی فراوانی‘ مہلت اور اقتدار بخش دیتا ہے‘ فرعون کی دوسری خوبی دستر خوان تھا‘ اس کا دستر خوان بہت وسیع تھا‘ وہ روزانہ ہزاروں جانور ذبح کراتا تھا‘ کھانا تیار کراتا تھا اور ہزاروں لاکھوں لوگوں کوکھلاتا تھا‘ لنگر کا بانی فرعون تھا اور بعد ازاں دنیا کے تقریباً تمام خطوں میں لنگر کے تصور پر کام ہوا اور فرعون کی تیسری خوبی علم اور ٹیکنالوجی تھی‘ وہ علم دوست اور عالم نواز بادشاہ تھا‘ جادو اس وقت ایک علم تھا اور اس نے سیکڑوں جادوگر پال رکھے تھے‘ اس نے نہ مٹنے والی سیاہی بھی تیار کرائی تھی‘ اس نے ایسے حیران کن اہرام بھی تیار کرائے تھے جو آج کے جدید اذہان تک کو حیران کر دیتے ہیں‘ اہرام مصر صحرا کے درمیان بنائے گئے‘ سیکڑوں میل تک کوئی چٹانی علاقہ نہیں‘ دنیا آج تک حیران ہے فرعون نے سیکڑوں‘ ہزاروں ٹن وزنی پتھر کہاں سے منگوائے‘یہ پتھر یہاں تک کیسے لائے گئے‘ یہ پتھر کیسے گھڑے گئے اور پھر یہ کرین کے دور سے پانچ ہزار سال قبل سیکڑوں فٹ بلندی پر کیسے نصب کیے گئے‘ فرعون نے نعشوں کو ہزاروں سال تک حنوط کرنے کا طریقہ بھی ایجاد کرایا اور اس نے اہراموں کے اندر ہوا اور روشنی کا ایسا بندوبست بھی کرایا جو پانچ ہزار سال گزرنے کے باوجود قائم رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں