بشکریہ روزنامہ ایکسپریس
پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آپ کی نظر سے ایسی خبریں ضرور گزرتی ہوں گی کہ ماں نے دو بچوں سمیت خوکشی کرلی۔ صرف چند روز پہلے کی خبر ہے کہ خاوند نے بیوی بچوں کو قتل کرکے تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔ اسی نوعیت کی بے شمار خبریں نہ صرف پاکستان میں بلکہ کم و بیش ساری دنیا کے ممالک کے میڈیا میں رپورٹ ہوا کرتی ہیں۔ ہم اگر وطن عزیز کے حوالے سے بات کریں تو یہاں ایسی خبریں، جنہیں ہم بس ایک خبر کی طرح پڑھتے، وقتی افسوس کرتے اور آگے بڑھ جاتے ہیں، اپنا ایک پس منظر رکھتی ہیں اور بیشتر ایسی دل دہلا دینے والی خبروں کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے غربت اور ناامیدی۔آپ تصور کیجئے کہ ایک شخص کا لگا لگایا روزگار ختم ہوچکا ہے، آگے نئی ملازمت یا کاروبار سر توڑ کوششوں کے باوجود نہیں ہو پارہا۔ گھر کے اخراجات روز افزوں مہنگائی کی وجہ سے مزید بڑھ گئے ہیں۔ بیوی سے روز جھگڑا ہوتا ہے۔ بچوں کے اسکول سے فیس کے ادائیگی کےلیے نوٹس پر نوٹس آرہے ہیں اور بچوں کو بار بار اسکول میں ذلیل کیا جاتا ہے۔ یوٹیلٹی بلز دینے ہیں۔ اگر مکان کرائے کا ہے تو کرایہ بھی دینا ہے۔ عزیز اقربا، دوست احباب بھی ایک حد تک مالی معاونت اور مدد کے بعد ہاتھ کھینچ چکے اور گریز کا رویہ اختیار کرچکے ہیں۔ راتوں کی نیند اڑ چکی ہے۔ کوئی ملازمت، کاروبار یا ترتیب معاش سمجھ اور نظر نہیں آرہی۔ جب حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر دو باتیں ہوتی ہیں، یا تو آدمی برائی اور حرام کے راستے پر چل پڑتا ہے اور اپنی روح بقول شخصے جیسے شیطان کو فروخت کردیتا ہے یا پھر اگر یہ نہ کرسکے تو وہ ایک ایسی ہی خبر بن جاتا ہے جس کا اوپر حوالہ دیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے حالات یا اس سے بھی بدتر ممکنہ حالات میں ان راستوں اور صورتوں کے سوا یعنی برائی، جرم اور گناہ کا راستہ اختیار کرنا یا پھر حرام موت کو گلے لگا کر اپنی آخرت بھی تباہ کرلینے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہوتا؟ یا ہوتا ہے، لیکن نظر نہیں آرہا ہوتا؟
بدتر سے بدترین حالات میں بھی ایک راستہ ہمیشہ کھلا ہوا ہوتا ہے اور وہ ہے دعا اور توبہ کا راستہ۔ اور سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ راستہ اس نے، جو سب کا خالق و مالک اور رب ہے، صرف مسلمانوں کےلیے ہی نہیں کھولا ہوا، بلکہ اسے ماننے والے ہر انسان کےلیے کشادہ رکھا ہے۔ کیونکہ وہ رب اللعالمین ہے، صرف رب المسلمین نہیں ہے اور یہ اس نے خود اپنے تعارف میں لوگوں کو بتایا ہے۔ تو چاہے کوئی کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو، کسی بھی عقیدے کا پیروکار ہو، اگر وہ بدترین حلات کے بھنور میں پھنس گیا ہے تو اس راستے پر ذرا چل کر تو دیکھے اور پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ اپنے بنانے والے کو پکار کر تو دیکھے۔ اس سے ذرا تڑپ کر مانگ کر تو دیکھے۔ حالات ضرور بالضرور بدلنے شروع ہوجائیں گے۔ اندھیرے چھٹنے شروع ہوجائیں گے اور ناامیدی اور مایوسی کی کیفیات بدلنا شروع ہوجائیں گی۔ اور پھر مسلمانوں کو تو اس سلسلے میں ایک بہت بڑا ایڈوانٹیج یا سہارا یہ ہے کہ ان کے کامل دین نے جیسے ہر شعبے میں انسانیت کی کامل رہنمائی کی ہے، ویسے ہی رزق اور معاش کے معاملات میں بھی بہترین رہنمائی موجود ہے۔
ہم رزق سے مراد بالعموم صرف مال و دولت کو لیتے ہیں، جو کہ درست تفہیم نہیں ہے۔ مال و دولت، معاش کی فراوانی، نیک اولاد، تابعدار رفیقۂ حیات، مہربان و مخلص دوست احباب، عزیز اقربا اور بھی زندگی میں ملنے والی ہر نعمت، تمام مسرتیں اور شادمانیاں اور خوشیاں سب رزق ہیں، جو اس خیر الرازقین کے ہاتھ میں ہیں، جس کے خزانے لامحدود ہیں۔ رزق زمین کی چیز ہی نہیں، بلکہ یہ آسمانوں سے اتارا جاتا ہے اور جو مقدر میں ہوتا ہے وہ مل کر رہتا ہے۔
ایک روایت کا مفہوم ہے کہ کسی شکی و منطقی نے باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہؓ سے پوچھا کہ اگر کسی کو ایک کمرے میں بند کردیا جائے جہاں ہوا کی آمدورفت کے سوا نہ کچھ اندر آسکتا ہو نہ ہی باہر جاسکتا ہو تو اسے رزق کیسے پہنچے گا، کہاں سے آئے گا؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہؓ نے بڑا حکمت آمیز اور معانی خیز جواب دیا کہ وہیں سے آئے گا جہاں سے موت آئے گی۔ تو جس کا جتنا رزق مقدر ہے وہ اسے ضرور پہنچتا ہے، چاہے وہ لق و دق صحرا و بیابان میں ہی کیوں نہ موجود ہو۔ اور پھر دین میں ایسے اعمال اور تراتیب بھی بتائی گئی ہیں جن سے رزق میں اضافہ بھی کردیا جاتا ہے، جیسے کہ صدقہ رزق کو بڑھاتا ہے، دعائیں مانگنے سے رزق بڑھایا جاتا ہے، صفائی نصف ایمان ہے پر عمل کرنے اور اسے عملی شکل میں اپنانے سے رزق و معاش میں مزید بہتری عطا کردی جاتی ہے۔ نمازوں کی پابندی بھی رزق کے بڑھانے کا اہم ترین ذریعہ اور سبب ہے۔ صلۂ رحمی یعنی رشتے داروں سے اچھا سلوک بھی رزق میں اضافے کا سبب ہے۔ اور بھی بے شمار باتیں ہیں جو معاملاتِ رزق میں بہتری کی جانب مشیر ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ پہلے پہل تو ہمیں بہت سی باتیں پتہ ہی نہیں ہوتیں۔ پھر اگر پتہ ہوں تو عمل نہیں کرتے اور اگر عمل بھی کسی درجے میں کرتے ہیں تو کرہاً و جبراً اور ڈھلمل یقین کے ساتھ کرتے ہیں۔ تو نتیجہ کیسے وہ نکلے گا جو مطلوب ہے۔یاد رکھیے! مسلمان کبھی اپنے رزق میں کثرت نہیں مانگتا، بلکہ برکت مانگتا ہے اور برکت چاہے وہ مال میں ہو یا وقت میں، ایسا زبردست آسمانی فضل اور انعام ہے جو تھوڑے میں بہت زیادہ نتائج کا حامل ہوا کرتا ہے، یعنی تھوڑے وقت میں زیادہ کاموں کا آسانی سے ہوجانا اور تھوڑے مال میں بڑی بڑی ضرورتوں کی کفایت ہوجانا۔ تو مایوس ہونے کے بجائے اگر دعا اور اعمال کا راستہ اختیار کیا جائے تو پھر خیر ہی خیر اور فراوانی ہی فراوانی ملا کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں