7 لڑکوں نے اپنی ہم جماعت کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد لاش درخت سے لٹکا دی ملزمان نے متاثرہ لڑکی کو امتحانات ختم ہونے کی خوشی میں پارٹی کا بہانہ لگا کر گھر پر مدعو کیا

7 طالب علموں نے اپنی ہم جماعت کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست آسام میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں دسویں جماعت کے طالب علموں نے ہم جماعت طالبہ کو ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔جمعہ کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے بعد لڑکی کی لاش کو درخت سے لٹکا دیا گیا تھا۔سینئر بھارتی پولیس افسر کے مطابق لڑکی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے الزام میں واقعے کے دو روز بعد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا جن کی تعداد 7 بتائی گئی ہے۔
واقعے کی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ طالب علموں نے امتحانات ختم ہونے کی خوشی میں ایک پارٹی کا اہتمام کیا جس میں کلاس میں پڑھنے والی طالبہ کو بھی مدعو کیا گیا۔پولیس کے مطابق لڑکوں نے پارٹی کے دوران لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔یہ واقعہ جمعہ کی رات کو پیش آیا۔جس کے بعد ملزمان نے لڑکی کی لاش کو گھر کے قریب درخت سے لٹکا دیا۔جب کہ لڑکی کی لاش ہفتے کے روز ملی۔ خیال رہے کہ بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بہت زیادہ پیش آتے ہیں۔ بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ملکی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 2007ء سے لے کر 2016ء کے دوران بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے ارتکاب میں 83 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ۔ عالمی بنک کی ایک اور رپورٹ کے مطاق اس صورتحال کے نتیجہ میں 2004ء سے 2012ء کے دوران دو کروڑ ملازمت پیشہ بھارتی خواتین جو نیویارک، لندن اور پیرس کی مجموعی آبادی کے برابر ہیں اپنی ملازمتوں کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو گئیں جو بھارتی معیشت کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔
میک کنسے گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ملکی بھارت میں 2025 ء تک ملکی معیشت میںخواتین کے بھرپور کردار سے جی ڈی پی میں 51.50 لاکھ کروٖڑ روپے کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔بھارت میں اس وقت 27 فیصد خواتین ملازمت پیشہ ہیں ۔بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مارکیٹنگ ایگزیکٹو کی حیثیت سے کام کرنے والی خاتون نے بتایا کہ خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم نے انہیں شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں